جعل سازی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دھوکا دہی، فریب دینا۔ "اس میں جعل سازی بہت دشوار ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، مقالات گارسان و تاسی، ١٦٣:١ )

اشتقاق

عربی اسم اور فارسی لاحقۂ فاعلی پر مشتمل مرکب 'جعل ساز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'جعل سازی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٩٨ء میں "حیات جاوید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھوکا دہی، فریب دینا۔ "اس میں جعل سازی بہت دشوار ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، مقالات گارسان و تاسی، ١٦٣:١ )

جنس: مؤنث